رائے پور،2؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کچھ ریاستوں میں بی جے پی کی اپنی ساتھی پارٹیوں کے ساتھ رسہ کشی جاری ہے، تو کچھ ریاستوں میں پارٹی کے اندر ہی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ چھتیس گڑھ میں بھی بی جے پی کے ساتھ کچھ ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں پارٹی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما نظر آ رہی ہے۔ دراصل جگدل پور میں چل رہی بی جے پی کی میٹنگ کے دوران کئی لیڈروں کی غیر حاضری نے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پارٹی کی پالیسیوں سے متعلق منعقد اہم کیمپ میں چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے قومی نائب صدر رمن سنگھ اور ان کے حامیوں کو ’کنارہ‘ کر دیا گیا۔ میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق یہ کام پارٹی کے سینئر لیڈر برج موہن اگروال اور کچھ دیگر عہدیداروں نے مل کر کیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق کیمپ میں آر ایس ایس کے بھی دو اہم لیڈر شامل نہیں ہوئے۔ مقامی پرچارک دیپک وسپوتے اور قصبہ پرچارک پریم شنکر سدار نے اس کیمپ سے خود کو کنارہ کر لیا۔ اس سے قبل جب بھی اس طرح کے کیمپ کا انعقاد ہوتا تھا تو یہ دونوں آر ایس ایس لیڈر ضرور شامل ہوتے تھے۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اندر کچھ ایسی اٹھا پٹخ جاری ہے، جس کا نقصان آئندہ اسمبلی انتخابات میں اسے ہو سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں جگدل پور میں بی جے پی دو دنوں کا کیمپ منعقد کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ہے قبائلی علاقوں پر پارٹی اپنی گرفت مضبوط کرے۔ اس میں آنے والے اسمبلی انتخابات کو لے کر روڈ میپ بھی تیار کیا جائے گا۔ حالانکہ اب تک بی جے پی کی طرف سے وزیر اعلیٰ عہدہ کے لیے کوئی چہرہ نہیں پیش کیا گیا ہے۔